نئی دہلی،05؍نومبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) جی ایس ٹی کونسل اس ہفتے ہونے والی میٹنگ میں عام استعمال کی بہت سے اشیاء پر ٹیکس کی شرح میں کمی پر غور کرے گی۔بتایا جاتا ہے کہ کونسل کے اجلاس میں ہاتھ سے تیار فرنیچر، پلاسٹک کی اشیاء اور شیمپو جیسے روزمرہ کے استعمال کے سامان پر جی ایس ٹی کی شرح میں کمی پر غور کیا جائے گا۔وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی قیادت والی جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ10 نومبر کو ہونی ہے۔سرکاری حکام نے کہا کہ بہت سی عام استعمال کی اشیاء پر 28فیصد کی جی ایس ٹی کی شرح کو کم کرنے پر غور کریں گے۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے لوگوں کو راحت کے لئے کمیٹی ان علاقوں میں ٹیکس کی شرح کو مناسب بنانے پر کام کرے گی جہاں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ٹیکسیشن ریٹ بڑھ گیا ہے۔پہلے بالواسطہ ٹیکس بندوبست (ان ڈائریکٹ ٹیکس سسٹم) میں ان پر مصنوعاتی شرح کی چھوٹ تھی یا ان پر کم شرح سے ٹیکس لگتا تھا۔جی ایس ٹی کو اسی سال ایک جولائی سے نافذ کیا گیا ہے۔اس کے بعد سے جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ ہر ماہ ہو رہی ہے۔ان ملاقاتوں میں کئی ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن سے کمپنیوں کے ساتھ ساتھ صارفین پر بھی بوجھ کم کیا جا سکے۔ایک اہلکار نے کہا کہ 28 فیصد کے سلیب والی اشیاء پر ٹیکس ریٹس کو مناسب کیا جائے گا۔زیادہ تر روزمرہ کے استعمال کی اشیاء پر ٹیکس کی شرح کو کم کرکے 18فیصد کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ فرنیچر، الیکٹرک سوئچ، پلاسٹک پائپ پر بھی ٹیکس کی شرح کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔جی ایس ٹی میں تمام طرح کے فرنیچر پر 28 فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔لکڑی کے فرنیچر کا زیادہ تر کام غیر منظم سیکٹر میں ہوتا ہے اور اس کا استعمال درمیانے طبقے کے خاندانوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔اسی طرح پلاسٹک کی مصنوعات پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگائی گئی ہے۔ لیکن شاور باتھ روم، سنک، واش بیسن، لیوریٹری پینس، سیٹ اور کور وغیرہ پر جی ایس ٹی کی شرح 28 فیصد تک ہے۔حکام نے کہا کہ ان پر بھی شرح مناسب بنانے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ وزن کرنے والی مشین اور کمپریسر پر بھی جی ایس ٹی کو 28 سے کم کرکے 18 فیصد کیا جا سکتا ہے۔جی ایس ٹی کونسل میں تمام ریاستوں کے نمائندے شامل ہیں۔